Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سیلاب میں بہہ کر آنے والی چیزوں کا حکم
- Fatwa no.
- 1257-WAT
- Issued
- 18 ربیع الثانی 1444ھ /14 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر سیلاب میں بہہ کر کوئی جانور یا چار پائی وغیرہ ہم تک پہنچے، تو ہم اسے لے کر اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں بہہ کر آنے والے جانور، چار پائی یا کسی دوسرے سلمان و غیرہ کا حکم مال لقطہ کا ہو گا اور لقطہ کا حکم یہ ہوتا ہے کہ اس کی تشہیر کرے،اگر مالک مل جائے، تو اسے واپس کرے،اگر مالک نہ ملے اور ظن غالب ہو جائے کہ مالک اب اسے تلاش نہ کرتا ہو گا، تو اسے صدقہ کر دے۔ نیز واضح رہے کہ اگر اس چیز کو اس نیت سے لے لیا کہ خودر کھ لے گا، مالک تک نہیں پہنچائے گا، تو یہ حرام و گناہ ہے اور یہ غاصب قرار پائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.