Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محمد عبداللہ عاصم نام رکھنے کا حکم

Fatwa no.
1249-WAT
Issued
14 ربیع الثانی 1444ھ /10 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں اپنے بیٹے کا نام محمد عبد اللہ عاصم رکھنا چاور ہاہوں، کیا یہ نام رکھنا درست ہے ؟

Answer (beginning)

جی ہاں! محمد عبد اللہ عاصم نام رکھنا درست ہے۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف " محمد "رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیات اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے "محمد عبد اللہ عاصم " نام رکھ لیجیے۔ محمد نام رکھنے کی فضیلت : کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” من ولدله مولود ذكر فسماه محمد احبالي وتير كاباسمي كان هو ومولوده في الجنة " ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.