Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مٹی کاتیل مسجدمیں جلانااورمٹی کے تیل والاروغن مسجدمیں لگانا
- Fatwa no.
- 1242-WAT
- Issued
- 12 ربیع الثانی 1444ھ / 08 نومبر 2022 ء
Question
(1) مٹی کا تیل پاک ہے یا نا پاک؟ (2) اور اسے مسجد میں جلانا کیسا ہے ؟ نیز اگر مٹی کے تیل کو کسی روغن میں ملا کر لگا یا جائے، تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
(1) بنیادی طور پر مٹی کا تیل پاک ہے (ہاں ! اگر اس میں کوئی نجاست وغیرہ گر جائے، تو جد ا صورت ہو گی )۔ (2) چونکہ مٹی کا تیل جلانے سے بدبو پھیلتی ہے ، لہذا اسے مسجد میں جلانا، جائز نہیں۔ یونہی اگر مٹی کا تیل کسی روغن و غیرہ میں ملائیں، جس کی وجہ سے روغن میں سے اس کی بد بو آنا شروع ہو جائے (اور مشاہدہ ہے کہ ایسار و غن استعمال کرنے کے بعد وہ جب تک اچھی طرح خشک نہ ہو جائے ، اس جگہ کے ارد گرد مٹی کے تیل کی شدید بد بو پھیلی رہتی ہے )، تو ایسی صورت میں مسجد میں وہ روغن کرنا جائز نہیں ہو گا، کیونکہ مسجد کو بد بو سے بچانا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.