Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کا طریقہ

Fatwa no.
1241-WAT
Issued
12 ربیع الثانی 1444ھ/08 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی طرف سے عمرہ کرنا ہو ، تو عمرہ کی نیت میں اس کا نام لینا ہو گا کہ فلاں کی طرف سے عمرہ کر رہا ہوں، یا پھر اپنی طرف سے عمرہ کی نیت کریں گے ، اور اس کو ثواب پہنچادیں گے ؟

Answer (beginning)

دونوں طریقے درست ہیں۔ کہ دوسرے کی طرف سے عمرہ کر نادر حقیقت اسے عمرہ کا ثواب پہنچانا ہے۔ لہذا اگر کسی کی طرف سے عمرہ کرناہو ،اس کا نام لیکر بھی نیت کر سکتے ہیں کہ : " یا اللہ عزوجل ! میں یہ عمرہ فلاں بن فلاں کی طرف سے ادا کر رہا ہوں، اسے قبول فرما۔ " یا پھر اپنی طرف سے عمرہ کر کے اسے ایصال ثواب بھی کر سکتے ہیں۔ بحر الرائق میں ہے: " لا فرق بين ان يكون المجعول له ميتا او حيا، والظاهر انه لا فرق بين ان ينوى به عند الفعل للغير او يفعله لنفسه ثم بعد ذلك يجعل ثوابہ لغیرہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.