Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ریان نام کا مطلب اور ریان نام رکھنا کیسا ہے؟

Answered by
مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی :
Fatwa no.
1238-WAT
Issued
11 ربیع الثانی 1444ھ / 07 نومبر 2022ء

Question

ریان نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب ریان نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

ریان نام رکھنا جائز ہے ، شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ریان جنت کے اس دروازے کا نام ہے ، جس سے روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے ، اور اس نام کے ایک تابعی بزرگ " ریان بن صبیره الحنفی " رضی اللہ عنہ بھی ہیں، اور حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، اور امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی ۔ البتہ یہ یادر ہے کہ احادیث مبارکہ میں نام محمد کی فضیلت و ترغیب آئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا "محمد" نام رکھنے کی ہے ، لہذا بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف " محمد " رکھا جائے اور پھر پکارنے کے لیے " ریان " رکھ لیا جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.