Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوبیویوں کے نفقہ کے حوالے سے تفصیل
- Fatwa no.
- 1232-WAT
- Issued
- 108 ربیع الثانی 1444ھ /04 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نفقہ میں دو بیویوں کے درمیان کیا برابری رکھنا ضروری ہے ، تفصیلا ارشاد فرمادیں؟
Answer (beginning)
نفقہ دو قسم کا ہے، ایک اصل نفقہ جو شوہر پر اپنی بیوی کا واجب ولازم ہے اور دوسرا اس سے زائد ۔ پہلی قسم کا نفقہ دو بیویوں میں برابر رکھنا اس وقت لازم ہے کہ جبکہ دونوں بیویاں مال اور فقر و غنا کی حالت کے اعتبار سے برابر ہوں ۔ اور اگر اس معاملے میں دونوں کی حالت ایک جیسی نہیں ہے، ایک فقیرہ اور دوسری غنیہ ہے تو شوہر اور بیوی دونوں کے حال کے مطابق نفقہ لازم ہو گا۔ مثلا شوہر اور بیوی دونوں امیر کبیر ہیں تو امیروں والا اور دونوں غریب ہیں تو غریبوں والا اور اگر ایک امیر اور ایک غریب ہے تو متوسط یعنی درمیانے قسم کا، لیکن اس آخری صورت میں اگر شوہر امیر ہے تو اسے چاہیے کہ جیسا خود کھاتا ہے، ویسا بیوی کو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.