Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے ساتھ رکوع میں ملنے کی تفصیل

Fatwa no.
1228-WAT
Issued
07 ربیع الثانی 1444ھ /03 نومبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) امام صاحب رکوع میں ہوں اور اب کوئی نمازی آئے اور نیت باندھے لیکن امام صاحب کھڑے ہو جائیں اور کھڑے ہو کر سمع اللہ لمن حمدہ کہیں ، امام کے کھڑے ہونے کے بعد اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے سے پہلے ہم رکوع میں جائیں، تو رکعت مل جائے گی یا نہیں؟

Answer (beginning)

رکوع کی سب سے کم حد یہ ہے کہ ہاتھ بڑھائیں، تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے جب ہاتھ اس حد سے اوپر ہو جائیں، تو نمازی رکوع سے نکل جاتا ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر امام رکوع کی اس حد سے اوپر آجائے اور اس کے بعد کوئی نمازی رکوع کی اس حد تک پہنچے، تو اسے رکعت نہیں ملے گی، چاہے امام نے سمع اللہ لمن حمدہ پڑھنا شروع کر دیا ہو یا شروع نہ کیا ہو اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسے یہ رکعت پڑھنی ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے، تو گھٹنے کو پہنچ جائیں، یہ رکوع کا ادنی ( کم سے کم درجہ ہے اور پورا یہ کہ پیٹھ سیدھی بچھا دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.