Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آنکھ سے نکلنے والے پانی کے متعلق تفصیل
- Fatwa no.
- 1221-WAT
- Issued
- 05, ربیع الثانی 1444ھ /01 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر آنکھوں میں الرجی ہو جس وجہ سے آنکھوں سے پانی آئے تو کیا وہ پانی ناپاک ہو گا؟ اور اگر آنکھوں میں کوئی مسئلہ نہیں مگر زکام ہے، چھینکیں آنے کی وجہ سے آنکھوں سے پانی نکل پڑتا ہے تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
الرجی دو طرح کی ہوتی ہے : (1) دھول مٹی یا دھوئیں سے الرجی ہو اور اس وجہ سے آنکھوں میں پانی آجائے تو یہ پانی ناپاک نہیں ہو گا کہ یہ مٹی وغیرہ کے لگنے کی وجہ سے آرہا ہے۔ (2) آنکھ میں کوئی بیماری ہے ، مثلا دانے بنے ہیں یا کوئی زخم وغیرہ ہے تو اس وجہ سے جو پانی آئے وہ ناپاک ہو گا بھلے اس سے درد ہو یا نہ ہو۔ اور اس کے بہنے سے وضو بھی ٹوٹ جائے گا۔ نوٹ: البتہ ! اگر آنکھ میں کوئی بیماری نہیں محض زکام ہے اور چھینکوں کی شدت کی وجہ سے آنکھوں میں پانی آجاتا ہے تو یہ پانی ناپاک نہیں کہ یہ آنکھ میں موجود کسی بیماری کے سبب نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.