Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گیلی بلی کے پاک یا ناپاک ہونے کی تفصیل

Fatwa no.
1217-WAT
Issued
04 ربیع الثانی 1444ھ / 31اکتوبر 2022ء

Question

کیا بلی گیلی ہونے سے ناپاک ہو جاتی ہے؟ دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

بلی کے مطلقا گیلا ہونے سے بلی کا جسم ناپاک نہیں ہو گا، البتہ اگر اس کے بدن پر نجاست لگنے کا یقین ہو تو جسم ناپاک کہلائے گا مثلاً بلی ، نجس پانی سے نکل کر آئی ہے یا کسی اور نجاست کے ساتھ گیلی ہے تو اس صورت میں بلی کا گیلا جسم ناپاک کہلائے گا۔ بہار شریعت میں ہے "سوئر کے سوا اگر اور کوئی جانور کو ئیں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور اس کے جسم میں نجاست لگی ہونا یقینی معلوم نہ ہو ، اور پانی میں اس کا مونجھ نہ پڑا تو پانی پاک ہے، اس کا استعمال جائز ، مگر اختیاطاً نہیں ڈول نکالنا بہتر ہے اور اگر اس کے بدن پر نجاست لگی ہو نا یقینی معلوم ہو تو کل پانی نکالا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.