Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ڈیوٹی کے دوران قرآن پاک کی تلاوت اور درود پاک پڑھ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
1216-WAT
Issued
04 ربیع الثانی 1444ھ / 31اکتوبر 2022 ء

Question

ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اجارہ وقت میں جو کام دیا گیا اگر وہ مکمل ہو جائے تو فارغ وقت میں زبانی قرآن پاک کی تلاوت یا درود پاک پڑھ سکتے

Answer (beginning)

یقین درود شریف پڑھنا اور تلاوت قرآن کرنا باعث فضیلت ہے، لیکن اگر ملازمت کے اوقات میں درود شریف و تلاوت قرآن کرنے سے اُس کام میں کمی واقع ہو جس کے لئے آپ ملازم ہیں، تو دوران ڈیوٹی درود شریف پڑھنے یا تلاوت قرآن کی شرعاً اجازت نہیں، بلکہ جتن وقت درود شریف پڑھا گیا یا تلاوت قرآن کی گئی ہے، اس کی وجہ سے کام میں جتنی کمی آئی اس حساب سے کوئی کروانا ہوگی۔ کیونکہ درود شریف پڑھنا یا تلاوت کرنا اگر چہ کارِ خیر ہے، مگر جس کام کے لئے آپ آجیر یا ملازم ہیں، اُس وقت میں خود کو اُسی کام کے لئے پیش کرنا اور وہی طے شدہ کام کرناشر ع واجب اور ضروری ہے، البتہ اگر اصل کام میں کسی طرح کا کوئی نقص یا کمی واقع نہیں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.