Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حاملہ عورت کا نکاح ہوسکتا ہے ؟
- Fatwa no.
- 1208-WAT
- Issued
- 01 ربیع الثانی 1444ھ / 28 اکتوبر 2022ء
Question
کیا حاملہ عورت کا نکاح ہو سکتا ہے؟
Answer (beginning)
حمل والی اگر عدت میں ہو تو اس سے نکاح نہیں ہو سکتا، خواہ وہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی یا متارکہ کی یاوطی بالشبہ کی ، اور حمل ثابت النسب ہو یا معاذ اللہ عز و جل زنا کا ہو مثلازانیہ حاملہ سے نکاح کیا اور شوہر مر گیا یا وطی کے بعد طلاق دی تو عدت وضع حمل ہے۔ ان سب صورتوں میں اس سے کسی دوسرے کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور اگر وہ عدت میں نہ ہو اور حمل ثابت النسب نہ ہو بلکہ زنا کا ہو تو ایسی صورت میں حالت حمل میں اس عورت کا نکاح ہو سکتا ہے، اگر نکاح زانی ہی سے ہوا ہے تو وہ اس عورت سے وطی بھی کر سکتا ہے، البتہ اگر نکاح زانی کے علاوہ کسی اور شخص سے ہو تو اس شخص کے لیے بچہ پیداہونے تک صحبت کرنا، جائز نہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.