Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ماموں یا چچا کی بیوہ سے نکاح کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1207-WAT
Issued
01 ربیع الثانی 1444ھ / 28 اکتوبر 2022ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا آدمی اپنے ماموں یا چا کی وفات کے بعد ان کی بیوہ سے نکاح کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

اگر ممانعت کی کوئی اور وجہ (حرمت مصاہرت و رضاعت و نسب و غیرہ) نہ ہو تو آدمی اپنے ماموں کے انتقال کے بعد اس کی بیوہ یعنی اپنی ممانی سے اس کی عدت گزرنے کے بعد اور اسی طرح چچا کی وفات کے بعد چا کی بیوہ سے اس کی عدت گزرنے کے بعد نکاح کر سکتا ہے کیونکہ آدمی کی ممانی اور پہنچی اس کی محارم عورتوں میں شامل نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے کہ چچی اور ممانی سے بھی دیگر نامحرم عورتوں کی طرح پر وہ کرنا، فرض ہوتا ہے۔ نیز جن عورتوں سے نکاح نہیں ہو سکتا، قرآن پاک میں ان کو شمار کر کے فرمایا: ( واحل لكم ما وراء ذلكم) ترجمہ : اور ان کے علاوہ جو عور تیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.