Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بیٹی کی شادی کئے بغیر حج قبول نہیں ہوگا؟
- Fatwa no.
- 1203-WAT
- Issued
- 29 ربیع الاول 1444ھ / 26اکتوبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس شخص کے گھر میں جو ان بیٹی غیر شادی شدہ ہے، اس کے متعلق سنا ہے کہ اس کا حج اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی کیا یہ درست ہے ؟
Answer (beginning)
جس شخص کے گھر میں جو ان بیٹی غیر شادی شدہ ہے اس کا حج اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی، یہ بات درست نہیں کیونکہ جس شخص پر حج فرض ہو چکا اس پر فرض ہے کہ اسی سال حج کو جائے بلا عذر شرعی اس سال حج نہ کرنا گناہ ہے اور فقہاء نے جن اعذار کی وجہ سے حج کی ادائیگی فرض نہ ہونے کا حکم دیا ہے ان میں بیٹی کی شادی کو شمار نہیں کیا لہذا اس وجہ سے جو حج موخر کرے گا گناہ گار ہو گا چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود، مگر جب کریگا ادا ہی ہے قضا نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.