Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ذبح کرتے وقت جانور کی گردن کٹ جائے تو اس جانور کا گوشت کھانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1201-WAT
- Issued
- 28 ربیع الاول 1444ھ / 25 اکتوبر 2022 ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی حلال جانور ذبح کرتے وقت اگر گردن ساری کٹ جائے، تو کیا اس جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
Answer (beginning)
اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جد اہو جائے، یہ مکروہ و ممنوع ہے کہ جانور کو بلاوجہ ایذادینا ہے لیکن جانور حلال ہے ، لہذا اسے کھا سکتے ہیں کہ یہ کر اہت اس کے فعل میں ہے، اس کی وجہ سے جانور کے گوشت میں کوئی کراہت نہیں۔ ہدایہ میں ہے ” و من بلغ بالسكين النخاع أو قطع الرأس كره له ذلك وتؤكل ذبيحته"۔۔۔وهذا لأن في جميع ذلك وفي قطع الرأس زيادة تعذيب الحيوان بلا فائدة وهومنهي عنه.والحاصل:أن مافيه زيادة إيلام لا يحتاج إليه في الذكاة مکروہ ترجمہ : جانور کو ذبح کرتے ہوئے چھری حرام مغز تک پہنچا دی یا سر جدا کر دیا تو یہ مکروہ ہے، البتہ ذبیحہ کھایا جائے گا، اور مذکورہ فعل میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.