Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ذروہ اور انشراح نام رکھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1197-WAT
- Issued
- 27 ربیع الاول 1444ھ / 24اکتوبر 2022ء
Question
ذروہ اور انشراح نام رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
وروہ ( ذال کی زیر یا پیش کے ساتھ ) بلندی کے معنی میں آتا ہے اور ڈروہ (ڈال کی زبر کے ساتھ ) مال کے معنی میں آتا ہے۔ اسی طرح انشراح کا معنی ہے کشادہ ہونا۔ مذکورہ دونوں نام رکھنا جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام امہات المؤمنین، صحابیات یا صالحات امت میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے تاکہ ان کے نام کی برکت اس بچی کو حاصل ہو اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب بھی آئی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.