Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کام کاج کی وجہ سے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ سنتیں چھوڑنا
- Fatwa no.
- 1191-WAT
- Issued
- 25 ربیع الاول 1444ھ / 22 اکتوبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کام کی مصروفیت کی وجہ سے سنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ نماز چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
جان بوجھ کر بلاعذر شرعی سنت موکدہ کا ایک آدھ بار ترک کر نا ئبرا ہے اور اگر عادت بنالی جائے، تو گناہ اور استحقاق عذاب کا باعث ہو گا کہ سنت مؤکدہ کو ایک آدھ بار ترک کرنے پر عتاب اور ترک کی عادت بنالینے پر استحقاق عذاب ہے لہذا صرف کام کاج کی مصروفیات کی وجہ سے سنت مؤکدہ کا ترک جائز نہیں اور غیر مؤکدہ سنتوں کا ترک اگر چہ گناہ نہیں ہے لیکن ان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کے پڑھنے پر ثواب ہے اور ہر شخص ثواب و اجر کا محتاج ہوتا ہے اس لیے ان کے بھی ترک کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.