Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا وجہ ہے کہ ہم نماز میں بھی اور نماز کے بعد بھی دعا مانگتے ہیں ؟
- Fatwa no.
- 1187-WAT
- Issued
- 24 ربیع الاول 1444ھ / 21اکتوبر 2022ء
Question
ہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ ہم نمازوں کے دوران بھی دعا مانگتے ہیں پھر جب نماز مکمل کر لیتے ہیں اس کے بعد بھی دعا مانگتے ہیں اس کی وضاحت کر دیں ؟
Answer (beginning)
سب سے پہلے تو یہ یادر ہے کہ اللہ عزو جل نے قرآن کریم میں مطلقا دعامانگنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا اس میں نہ تو وقت کی کوئی قید نہیں ہے اور نہ ہی تعداد بیان ہوئی ہے کہ دن میں اتنی بار ہی دعا مانگی جائے ، بلکہ کثرت سے اور بار بار دعا مانگنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے کہ نہ جانے کون سی گھڑی مقبولیت کی ہو۔ لہذا جتنی بار چاہیں، جس وقت چاہیں دعا مانگ سکتے ہیں اور بار بار مانگ سکتے ہیں۔ جامع الترمذی میں ہے "لیکثر الدعاء "ترجمہ : چاہیے کہ کثرت سے دعا کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.