Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کا جواب دینا واجب ہے یا مستحب؟
- Fatwa no.
- 1185-WAT
- Issued
- 23 ربیع الاول 1444ھ / 120اکتوبر 2022ء
Question
اذان کا جواب دینا واجب ہے یا
Answer (beginning)
زبان سے اذان کا جواب دینے میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ ایک قوی قول یہ ہے کہ اذان کا جواب دینا واجب ہے۔ جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ جواب دینا مستحب ہے یہی قول مفتی بہ اور راجح تر ہے۔ اور جماعت واجب ہونے کی صورت میں جواب بالقدم یعنی مسجد میں جا کر جماعت میں شامل ہو ناراجح قول کے مطابق یہ واجب ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " والذي ينبغى تحريره في هذا المحل ان الاجابة باللسان مستحبة وان الاجابة بالقدم واجبة ان لزم من تركها تفويت الجماعة " اور اس مقام میں جس بات کا ثبوت مناسب ہے (وہ یہ ہے کہ) بے شک زبان سے جواب دینا مستحب ہے اور قدم سے جواب دینا واجب ہے اگر اس کے ترک سے جماعت کو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.