Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نکاح میں صرف عورتوں کو گواہ بنا سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 1181-WAT
- Issued
- 22 ربیع الاول 1444ھ / 19اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) اگر کوئی بھی مرد نہ ہو، تو کیا نکاح کے لیے چار عور تیں گواہ بن سکتی ہیں ؟
Answer (beginning)
نکاح کے گواہوں میں اگر ساری عورتیں ہوں، کوئی مرد نہ ہو، تو نکاح درست نہیں ہو گا، کیونکہ نکاح کے درست ہونے کے لئے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا گواہ ہونا ضروری ہے ، اس کے بغیر نکاح درست نہیں ہو گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” ولا یشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذافي الهداية ولا ينعقد بشهادة المرأتين بغیر رجل "ترجمہ : نکاح میں گواہوں کا مرد ہونا شرط نہیں بلکہ ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے ، جیسا کہ ہدایہ میں ہے، البتہ مرد کے بغیر صرف دو عورتوں کی موجود گی سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.