Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مراہق کا بے وضو قرآن پاک چھونا
- Fatwa no.
- 1167-WAT
- Issued
- 18 ربیع الاول 1444ھ /15اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا مراہق کے لیے قرآن مجید چھونے کے لیے وضو کر ناضروری ہے؟
Answer (beginning)
مرابق نابالغ ہوتا ہے، اگر چہ بعض احکام میں وہ مثل بالغ ہوتا ہے، لیکن جب تک بالغ نہیں ہو جاتا، وہ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہو تا کہ اس پر کوئی چیز فرض یا واجب ہو ، جبکہ کسی ضروری چیز کو ترک کرنے یا حرام کے ارتکاب پر گناہ اسے ہوتا ہے کہ جو بالغ ہو، لہذا اگر مراہق نے بغیر وضو بھی قرآن مجید چھولیا، تو اس پر گناہ کا حکم نہیں ہو گا۔ البتہ مراہق یا ایسا بچہ کہ جو سمجھدار ہو ، اگر چہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو، اسے دینی احکام و مسائل پر عمل کروانا چاہیے تا کہ اس کی عادت بن جائے اور بالغ ہونے کے بعد وہ ان معاملات میں سستی نہ کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.