Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت احرام میں تھوڑے حصے پر خوشبو لگ جائے تو حکم؟
- Fatwa no.
- 1165-WAT
- Issued
- 18 ربیع الاول 1444ھ / 15 اکتوبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر احرام کی حالت میں ہاتھ کی انگلی کے اوپر والے پورے کے ایک چھوٹے سے حصے پر عطر لگ جائے اور خوشبو بھی بس اُسی جگہ سے آرہی ہو ، پورے ہاتھ یا دوسری انگلیوں سے نہیں آرہی تو کیا اُس پر دم لازم ہو گا؟
Answer (beginning)
یا در کیسے کہ خوشبو لگنے کی صورت میں دم اُس وقت واجب ہوتا ہے، جب خوشبو کثیر (یعنی زیادہ) ہو یا کسی بڑے عضو کو پورا خوشبو میں لتھیڑ دیا جائے، اگر چہ خوشبو کم ہی ہو ۔ اور اگر خوشبو قلیل (کم ) ہو اور کسی بڑے عضو کو مکمل خوشبو میں لتھیڑ انہ گیا ہو، تو محرم پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔ آپ کی بیان کر دو صورت میں خوشبو صرف انگلی کے پورے کے ایک چھوٹے سے حصے پر لگی ہے ، تو اتنی مقدار پر کثیر خوشبو کا اطلاق نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں صدقہ واجب ہے۔ نوٹ: صدقہ سے مراد صدقہ فطر (1920 گرام) کی مقدار گندم یا اُس کا آنا یا اس کی رقم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.