Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نفلی طواف میں اضطباع کرنا لازم ہے؟
- Fatwa no.
- 1164-WAT
- Issued
- 18 ربیع الاول 1444ھ /15اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) حج قران کرنے والا اگر محض نفلی طواف کرے تو اضطباع کرے گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
اضطباع کے بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو اور وہ احرام کی چادروں میں کیا جائے تو اس میں اضطباع کیا جائے گا۔ بیان کر دہ صورت میں اگر اس طواف کے بعد سعی کا ارادہ ہو تو پھر اضطباع کرے گا ورنہ نہیں۔ لباب و شرح لباب میں ہے " (وهو) أي الاضطباع (سنة في كل طواف بعده سعي) كطواف القدوم والعمرة وطواف الزيارة على تقدير تأخير السعي، وبفرض أنه لم يكن لابسأفلا ينافي ما قال في «البحر» من أنه لا يسن في طواف الزيارة، لأنه قد تحلل من إحرامه ولبس المخيط، والاضطباع في حال بقاء الإحرام “ترجمہ : اضطباع ہر اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو جیسا کہ طواف قدوم، طواف عمرہ اور طواف زیارت جبکہ طواف…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.