Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سسر اپنی بہو سے نکاح کرسکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1159-WAT
- Issued
- 16 ربیع الاول 1444ھ / 13اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) بیٹے نے طلاق دے دی ہو تو کیا سسر اپنی بہو سے نکاح کر سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
جو شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کے نکاح کرتے ہی وہ عورت اس شخص کے باپ پر حرام ہو جاتی ہے ، خواہ اس نے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کی ہو یانہ کی ہو کیونکہ قرآن پاک میں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس میں ہمبستری کی شرط نہیں لگائی گئی ۔ لہذا حقیقی بیٹے کے فوت ہونے یا طلاق دینے کے بعد ، باپ کا اس کی بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کرنا حرام و گناہ ہے۔ قرآن پاک میں واضح طور پر بہو سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ﴿وَ حَلَابِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُم ترجمہ کنز العرفان: اور ( تم پر حرام کی گئی ہیں) تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.