Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال خیرات کرنا

Fatwa no.
1150-WAT
Issued
13 ربیع الاول 1444ھ /10اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اپنے میکے والوں کو یا غریب لوگوں کو کچھ دے سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے بیوی کا اپنے میکے والوں کو یا کسی دوسرے کو کچھ دینا جائز نہیں ہے ہاں اگر شوہر اجازت دے دے چاہے صراحتا ہو یا لالہ مثلا چیز ایسی یا اتنی قلیل مقدار ہے کہ عام طور پر ایسی چیز خیرات کرنے یا میکے والوں کو دینے کارواج ہوتا ہے اور شوہر اس پر برا نہیں مانتاوغیرہ وغیرہ۔ تو ایسی صورت میں بیوی کا شوہر کے مال میں اتنا تصرف کرنا جتنی اسے اجازت ہے شرعاً جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.