Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا زندہ کی طرف سے عمرہ کرنا جائز ہے؟

Fatwa no.
1149-WAT
Issued
13 ربیع الاول 1444ھ /10اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض لوگوں کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ عمرہ مرحوم کی طرف سے کر سکتے ہیں زندہ کی طرف سے نہیں زندہ کی طرف سے طواف ہوتا ہے؟

Answer (beginning)

اپنے کسی بھی نیک کام مثلا حج ، عمرہ ، طواف، روزہ، صدقہ و غیرہ کا ثوب اپنے والدین اور دوسرے مسلمانوں کو بخش سکتے ہیں خواہ وہ حیات ہوں یا وفات پاچکے ہوں۔ لہذا جس طرح عمرہ فوت شدہ شخص کو ثواب پہنچانے کی نیت سے کیا جا سکتا ہے اسی طرح زندہ کی طرف سے بھی عمرہ کیا جا سکتا ہے۔ سوال میں جو بات بیان کی گئی ہے کہ عمرہ زندہ کی طرف سے نہیں ہو سکتا، بے جا بات ہے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، حدیث پاک میں ہے : " عن ابی رزين العقيلي انه اتى النبي صلى الله تعالی علیه و آله وسلم فقال : يا رسول الله (صلی الله علیه وسلم) ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن، قال: حج عن ابیک و اعتمر ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.