Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دھات کی چابی تعویز کی طرح گلے میں لٹکا کر نماز پڑھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1146-WAT
- Issued
- 11 ربیع الاول 1444ھ/08اکتوبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طلبائے کرام اپنے بیگوں کی چابیاں جو کہ دھات کی بنی ہوتی ہیں بعض اوقات تعویز کی طرح اپنے گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور پھر اسی حالت میں نماز بھی ادا کرتے ہیں، تو اس کو گلے میں ڈالنے کا کیا حکم ہو گا اور اسے گلے میں ڈال کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
دھات میں صرف تحلی (یعنی زیور کے طور پر پہنا) حرام ہے اور تحلی زیور کے ساتھ ہوتی ہے اور زیور وہ چیز ہوتی ہے، جس سے زینت حاصل کی جاتی ہے اور دھات کی چابی گلے میں زیور اور زینت کے طور پر نہیں ڈالی جاتی، بس حفاظت کے لئے گلے میں ڈالی جاتی ہے لہذا اس کو گلے میں ڈالنا اور اس حالت میں نماز ادا کر نادونوں کام جائز ہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.