Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تنزیلہ نام کا مطلب اور تنزیلہ نام رکھنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 1142-WAT
- Issued
- 10ربیع الاول 1444ھ /107اکتوبر 2022ء
Question
مفتی صاحب سے سوال ہے کہ تنزیلہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں۔ اور اسکا مطلب کیا ہے۔ اور اگر جائز نہیں تو اگر کسی نے پہلے سے رکھا ہو تو کیا تبدیل کرناضروری ہے۔ بینوا توجروا مصدر
Answer (beginning)
تنزیل مصدر ہے جس کا معنی ہے: بتدریج اتارنا یہ لفظ قرآن پاک میں قرآن پاک کے لیے استعمال ہوا ہے ، وہاں ر مفعول کے معنی میں ہے ، تو اس کا مطلب ہے : بتدریج اتار اہوا۔ لیکن مونث بنانے کے لیے تنزیل کو تنزیلہ کرنا عربی اصولوں کے موافق نہیں، بہر حال تنزیلہ نام رکھنا گناہ نہیں ہے اور بہتر ہے کہ نیک عور توں، حضرات صحابیات و تابعیات و غیر در ضوان اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیجیے، مثلا عائشہ ، میمونہ ، فاطمہ، عاتکہ، جویریہ و غیره و غیرہ کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.