Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام صاحب نے ایک سورت بھولنے پر دوسری سورت شروع کردی تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1139-WAT
Issued
09 ربیع الاول 1444ھ / 06 اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال ہے کہ امام نے فرضوں کی پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الملک پڑھنا شروع کی ، ابھی ایک آیت بھی نہیں مکمل ہوئی، کہ امام بھول گیا، بار بار پڑھنے کی امام کوشش کر رہا ہے اور پیچھے بھی کوئی اس لائق نہیں، کہ امام کو لقمہ دے ، اب امام نے سورۃ الملک چھوڑ کر سورۃ القریش پڑھنا شروع کر دی، تو کیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی اور اگر سجدہ سہو بھی نہ کیا تو کیا حکم ہے۔

Answer (beginning)

اگر امام کے کوشش کرنے کے دوران اُس کی جانب سے تین دفعہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموشی پائی گئی اور سوچتا رہا تو اس پر سجدہ سہو واجب تھا، اگر نہیں کیا تو اس نماز کو دو بار پڑھنا واجب ہے، لیکن اگر تین دفعہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش رہ کر سوچنا نہیں پایا گیا، بلکہ مسلسل کوشش کے دوران آیت کے الفاظ دہر اتار ہا اور یاد نہ آنے پر دوسری سورت کی جانب منتقل ہو گیا تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.