Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خون یا پیپ ایک درہم سے کم نکلا ، تو وضو کا حکم

Fatwa no.
1135-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خون یا پیپ ایک درہم سے کم نکلا، تو کیا وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

وضو ٹوٹنے کے معاملے میں درہم کا اعتبار نہیں، بلکہ حکم شرعی یہ ہے کہ خون یا پیپ یا زرد پانی سبیلین (اگلی اور پچھلی ۔ شرمگاہ) کے علاوہ کہیں اور سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے، تو وضو جاتارہا، اگر صرف چپکا یا بھرا اور بہا نہیں، جیسے سوئی کی نوک یا چا قو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون ابھر یا چمک جاتا ہے ، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں سبیلین (انگلی اور پچھلی شرمگاہ) میں سے کسی ایک میں سے نکلنے کی صورت میں فقط ظاہر ہونے سے ہی وضو ٹوٹنے اور ان کے ناپاک ہونے کا حکم ہو گا، ان میں بہنے کی شرط نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.