Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تنہا نماز پڑھنے والا اذان واقامت کہے گا یا نہیں؟

Fatwa no.
1131-WAT
Issued
06, ربیع الاول 1444ھ/03اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی وجہ سے مسجد کی جماعت چھوٹ جائے اور گھر میں نماز پڑھ رہے ہوں، تو کیا اس کے لئے بھی اذان واقامت کہی جائے گی ؟

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص گھر میں نماز پڑھے اور قریب میں کوئی مسجد ہے، جس سے اذان کی آواز آتی ہے، اور اس کے نماز شروع کرنے سے پہلے اذان ہو گئی ہے تو اذان واقامت کے بغیر نماز پڑھنابلا کراہت درست ہے۔ اور اگر وہ ایسی جگہ موجود ہے، جہاں قریب میں کوئی مسجد بھی نہیں اور نہ ہی وہاں اذان کی آواز آتی ہے، تو وہاں اذان واقامت کے ساتھ نماز ادا کی جائے ، اسی طرح اگر قریب میں مسجد تو ہے لیکن ابھی وہاں اذان نہیں ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے، کیونکہ ایسی 6 جگہ اذان واقامت دونوں کو ترک کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر کسی نے اذان نہ دی، لیکن اقامت کہہ لی، تو کراہت باقی نہیں رہے گی۔ مگر اولی یہ ہے کہ اذان بھی کہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.