Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت میکے میں نماز پوری پڑھے گی یا قصرکرے گی؟
- Fatwa no.
- 1129-WAT
- Issued
- 03 ربیع الاول 1444ھ /30 ستمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بیوی اپنے میکے میں پوری نماز پڑھے گی یا قصر کرے گی جب کہ پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہو ؟
Answer (beginning)
عورت جب اپنے میکے سے رہائش ختم کر کے مستقل طور پر شوہر کے شہر میں رہنے چلی جائے ، تو میکا اس کا وطن اصلی نہیں رہتا، لہذا جب سفر شرعی کر کے وہ پندرہ دن رات سے کم کے لئے میکے آئے گی، تو نماز میں قصر کرتے ہوئے چار رکعت فرض کی جگہ دور کعت فرض پڑھے گی۔ اس صورت میں شوہر کے شہر اور میکے کے درمیان اگر مسافت شرعی یعنی کم از کم 92 کلو میٹر کا فاصلہ ہو اور عورت پندرہ دن رات سے کم کی نیت سے اپنے میکے آئے ، تو اس کے لئے چار رکعت فرض نماز میں قصر کرنے کا حکم ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.