Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زمین یا گھر وراثت میں ملے تو کیا اس پر زکوۃ ہوگی؟

Fatwa no.
1114-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وراثت میں اگر زمین یا گھر ملے تو کیا اس کی زکوۃ ادا کرنا ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت کے مطابق وہ زمین یا گھر اگر مال تجارت نہیں تو اس کی زکوۃ فرض نہیں کہ زکوۃ مال نامی پر فرض ہوتی ہے اور زمین یا گھر اس صورت میں مال نامی نہیں بنتے، جب ان کو بیچنے کی نیت سے نہ خریدا جائے،۔ ہاں اگر مورث نے یہ بیچنے کی نیت سے خریدے تھے اور بعد میں ورثا کی بھی تجارت کی نیت باقی ہو تو یہ مال زکوۃ بنیں گے ، اور ہر وارث اس میں موجود اپنے حصے کو بھی اپنے دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ شمار کرے گا، اور شرائط مکمل ہونے کی صورت میں زکوۃ فرض ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.