Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مرد پونی باندھ کرنمازپڑھ سکتا ہے؟

Answered by
محمد بلال عطاری مدنی فتوی نمبر: 1109-WAT
Fatwa no.
1109-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مرد کے بال لمبے ہو تو کیا وہ پونی باندھ کر نماز پڑھ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

مرد کا پونی باندھ کر نماز پڑھنانا جائز و حرام ہے اور اس کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی کہ حدیث پاک میں اس سے ممانعت فرمائی گئی ہے، نیز اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت بھی ہے اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے پر حدیث پاک میں لعنت فرمائی گئی ہے۔ در مختار میں ہے ” ( وصلاته مع ۔۔۔ عقص شعرہ ) ترجمہ : بالوں کی چوٹی بنا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اس کے تحت ردالمحتار میں ہے ” (قوله وعقص شعره إلخ) أي ضفره وفتله، والمراد به أن يجعله على هامته ويشده بصمغ، أو أن يلف ذوائبه حول رأسه كما يفعله النساء في بعض الأوقات، أويجمع الشعر كله من قبل القفا ويشده بخيط أو خرقة كي لا يصيب الأرض إذا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.