Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم کے مال کی شیرینی پر فاتحہ کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1107-WAT

Question

ہند میں مزارات پر غیر مسلم بھی آتے ہیں اور اپنے ساتھ نیاز کا سامان یعنی شیرینی و غیر ہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر فاتحہ پڑھ دیں، ہمارے لیے کیا حکم ہے کیا ہم اس پر فاتحہ شریف پڑھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

غیر مسلموں کی لائی ہوئی شیرینی پر فاتحہ شریف پڑھنا درست نہیں، اس کی درست صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی فاتحہ شریف پڑھنے کا کہے تو اسے کہیں کہ یہ شیرینی میری ملک کر دو، اب جب اس کے مالک ہو گئے تو اس پر فاتحہ پڑھ کر اپنی طرف سے مسلمانوں میں تقسیم کر دیں۔ صدر الا شریعہ ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: "اگر خاکروب کافر ہو تو اس کے مال کی نیاز نہیں ہو سکتی کیونکہ نیاز نام ہے ایصال ثواب کا اور کافر کے کسی فعل میں ثواب نہیں، پھر ایصال ثواب کا کیا معنی نہ اس کے مال سے نیاز دینا جائز نہ اس میں شرکت جائز اور اس کا کھانا بھی اچھا نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.