Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شادی کے کپڑے رینٹ پر لے کر پہننا کیسا؟

Fatwa no.
1105-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دولہا اور دلہن کا شادی کے کپڑے رینٹ پر لے کر پہنا کیسا؟

Answer (beginning)

شادی کے کپڑے پہننے کے لئے ان کو کرائے پر لینا دینا جائز ہے لہذا صورت مسئولہ میں اگر شادی پر پہننے کے لیے کپڑے رینٹ پر لیے اور اجارہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ درست طریقے پر کیا، اس میں کوئی ناجائز شرط نہیں لگائی تو یہ اجارہ کرنا اور ان کپڑوں کو پہننا جائز ہے۔ المبسوط للسرخسی میں ہے " وإذا استأجر ثوباليلبسه يوما إلى الليل بأجر مسمى فهو جائز لأنه عين منتفع به بطریق مباح "ترجمہ : اور جب کوئی کسی کپڑے کو ایک دن سے رات تک کے لیے کرائے پر لے معین اجرت کے بدلے تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ ایسا عین ہے جس سے مباح طریقے سے نفع اٹھایا جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.