Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا حاجی اپنے ملک میں بھی قربانی کرے گا؟

Answered by
محمد عرفان مدنی عطاری
Fatwa no.
1104-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت جو جج پر گیا ہو تو کیا وہ گھر میں بھی قربانی کرے گا؟ (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

پہلے تو یہ یادر ہے کہ اگر کوئی مقیم شخص صاحب نصاب ہو کہ عید کے ایام میں اس کے پاس نصاب یعنی ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود ہو ، تو اس پر قربانی لازم ہوگی۔ اور اگر کوئی شخص عید کے دنوں میں نصاب کا مالک نہیں یا مقیم نہیں بلکہ مسافر ہے تو اس پر شر عاعید والی قربانی واجب نہیں ہوتی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.