Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بس کے سفرکے دوران نمازکاوقت ہوجائے توکیاکرے؟

Fatwa no.
1103-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بس میں پانچ چھ گھنٹے کا سفر ہے ، اس دوران بس کہیں رکنی بھی نہیں ہے، سمت قبلہ کا علم بھی نہیں ہے ،اس حالت میں نماز کا کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

نماز ایک اہم فرض ہے ، جس شخص نے سفر کرنا ہے اسے چاہئے کہ پہلے سے نمازوں کے اوقات کو پیش نظر ر کھ کر بس کی ٹکٹ کر وائے کہ یہ بس کس نماز کے وقت میں کہاں رکے گی، جب پتہ ہو کہ نماز کا وقت دوران سفر آجائے گا اور بس بھی نہیں رکے گی تو حتی الامکان کوشش کرے کہ نماز پڑھ کر ہی سفر کے لئے جائے، اگر مجبوری ہو تو بیٹھنے سے پہلے کم از کم وضو کا اہتمام کر لے۔ اب اگر گاڑی میں سوار ہو گیا ہے اور گاڑی چل رہی ہے تو اس میں نماز پڑھنے کی درج ذیل صورتیں اور احکام ہیں : (1) گاڑی رک نہیں رہی اور اس کا پہلے سے وضو موجود ہے تو جب نماز کا وقت جاتا دیکھے جہاں تک ممکن ہو کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف منہ کر کے ورنہ جیسے آسانی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.