Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کھانے کے قابل حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 11000-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی حلال کھانے والی چیز کو کہنا کہ یہ میرے اوپر حرام ہے، تو اگر اس چیز کو بعد میں کھا لیا تو کیا کفار ولازم ہو گا ؟
Answer (beginning)
66 کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا شرعی نقطہ نظر سے ”قسم ہے ، لہذا اگر کسی حلال چیز کو خود پر حرام کرنے کے بعد اُس چیز کو کھا یا تو کفارہ لازم آئے گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " تحریم الحلال يمين. كذافي الخلاصة.فمن حرم علی نفسه شيئا مما يملكه لم يصر محرماثم إذا فعل مما حرمه قليلا، أو كثيرا حنث ووجبت الكفارة كذا في الهداية. " ترجمہ : حلال چیز کو حرام کرنا، قسم ہے اسی طرح خلاصہ میں ہے، پس جس نے اپنی مملو کہ اشیاء میں سے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کیا تو وہ حرام نہیں ہو گی پھر جس کام کو اس نے حرام کیا تھا، جب اس نے وہ کام کیا، چاہے تھوڑا کیا یازیادہ تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور کفارہ واجب ہو گا،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.