Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شوہر کے مرنےپر بیوی کا چوڑیاں توڑنے یا اتارنے کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
1092-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شوہر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کے ہاتھ سے چوڑیاں توڑ دی جاتی ہیں یا کوئی دوسری عورت اس کے ہاتھ سے چوڑیاں اتار دیتی ہے۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

Answer (beginning)

شوہر کے فوت ہونے کے بعد اس کی بیوی پر چار ماہ دس دن تک عدت گزار ناواجب ہوتا ہے ، عورت کے لیے عدت کے ایام میں زینت کرنا، حرام ہے۔ اس لیے عورت کے لیے حکم یہ ہے کہ شوہر کے فوت ہونے کے وقت اگراس کے ہاتھ میں چوڑیاں وغیرہ ہیں تو انہیں اتار دے کیونکہ چوڑیاں بطور زینت ہی پہنی جاتی ہیں۔ لیکن شوہر کے فوت ہونے کے بعد چوڑیاں توڑ کر اتار نا، گناہ ہے کہ کیونکہ یہ اسراف یعنی بے جامال کو ضائع کرنا ہے نیز بیوہ عورت کے ہاتھ میں پہنی چوڑیاں توڑنا، غیر مسلموں کا طریقہ ہے، اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ شوہر کے فوت ہونے کے بعد کوئی دوسری عورت ہی اس کے ہاتھ سے چوڑیاں اتارے، عورت خود بھی اتار سکتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.