Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بغیر آبپاشی کے تیار فصل پر عشر یا نصف عشر؟
- Fatwa no.
- 1090-WAT
- Issued
- 22 صفر المظفر 1444ھ/19 ستمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اسلامی بھائی نے چنے بارش کے موسم میں ہوئے اور بارش کے بغیر چنے اگ آئے یعنی مٹی کی نمی سے، خود بھی پانی وغیرہ نہیں ڈالا وہ اگ آئے تو اس پر کس حساب سے عشر لگے گا یا نصف عشر ؟
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں اس کا دسواں حصہ عشر میں دینا لازم ہے۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے "اگر اس نے اس کی کاشت بارش، نہر ، نالے ، چشمہ اور دریا کے پانی سے کی ہے یا بغیر آبپاشی کے قدرتی نمی سے پیدا ہوا ہے ، تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہو گا۔ " (فتاوی فقیه ملت،ج1،ص300،شبیر برادرز، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.