Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غلہ روکنے کی جائزوناجائزصورتیں
- Fatwa no.
- 1088-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں پانچ لاکھ کا اناج سٹور کر رہا ہوں اس نیت سے جب اچھا ریٹ ملے گا تو میں بیچ دوں گا ابھی ہمارے علاقے میں لوگوں کو غلہ کی ضرورت پوری ہو چکی ہے یہ جو خریدا ہے یعنی جو ہم سٹور کر رہے ہیں دو یا تین مہینے کے لئے ہے۔ ایسا کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
احتکار یعنی غلہ روکنا منع ہے اور سخت گناہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ گرانی کے زمانہ میں غلہ خرید لے اور اُسے بیچ نہ کرے بلکہ روک رکھے کہ لوگ جب خوب پریشان ہوں گے تو خوب گراں کر کے بیع کروں گا اور اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتا ہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب گراں ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ احتکار ہے نہ اس کی ممانعت۔ لہذا دریافت کی گئی صورت میں جب لوگوں کی ضرورت پوری ہونے کے بعد غلہ خریدا گیا ہے تو اسے سٹور کرنا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.