Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بلاوجہ بیوی اوربچوں کانان ونفقہ ادانہ کرنا

Fatwa no.
1084-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص اپنی بیوی اور بچوں کا نان نفقہ ادا نہ کرے حتی کہ بیوی اپنے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے مکمل طور پر اپنے والدین اور بہن بھائیوں پر منحصر ہو، اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے ، خاندان کے بڑے افراد کی مداخلت کے باوجود شوہر نفقہ نہ دے اور صور تحال بگڑتی جارہی ہو تو بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص اپنی بیوی اور بچوں کا نان نفقہ ادانہ کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہے کہ صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”آدمی کو گنہگار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ جس کا کھانا اس کے ذمہ ہو ،اُسے کھانے کو نہ دے۔“ اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے تو بہ کرے اور اپنے بیوی بچوں کا نان نفقہ پورا کرے، اگر وہ کسی بھی طرح نان نفقہ پورا کرنے پر راضی نہیں ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے، یوں معلق نہ چھوڑے، اور اگر بیوی شوہر کی طرف سے نان نفقہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کے ساتھ مزید زندگی نہیں گزار سکتی تو بیوی کے لیے بھی طلاق کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.