Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرمگاہ کوہاتھ لگانےسےوضوکاحکم
- Fatwa no.
- 1071-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ مثلاً غسل سے پہلے وضو کیا، پھر غسل کے دوران شرمگاہ پر ہاتھ لگ گیا، تو کیادوبارہ وضو کرنا ہو گا؟
Answer (beginning)
صرف شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر شرمگاہ پر ہاتھ لگانے سے ، منی یا مذی خارج ہو ، تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، نیز اگر منی شہوت کے ساتھ نکلی، تو غسل بھی فرض ہو گا۔ نوٹ : شرمگاہ پر ہاتھ لگانے سے اگر منی پابندی کا خروج نہ ہو ، تو اس صورت میں اگرچہ وضو نہیں ٹوٹتا، مگر دوبارہ وضو کر لینا مستحب ہے ، کہ اس صورت میں اگر چہ ہمارے نزدیک وضو نہیں ٹو تا لیکن اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہونے کی وجہ سے فقہاء کرام نے اختلاف علماء کی رعایت کرتے ہوئے ستر غلیظ یعنی شرمگاہ کو چھونے کے بعد وضو کو مستحب قرار دیا ہے۔ جیسا کہ بہار شریعت حصہ دوم میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.