Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اصل قیمت سے جتنازائدہواسے کمیشن بنانا

Fatwa no.
1069-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہمیں کوئی چیز دے اور کہے کہ اسے آگے بیچ دیں جو پرافٹ ہو وہ آپ رکھ لیں اور جو اصل قیمت ہے وہ مجھے دے دیں تو کیا یہ جائز ہے ؟

Answer (beginning)

اس مسئلے کی دو صورتیں بنے گیں : (الف) کمیشن ایجنٹ کا کوئی کمیشن طے نہیں سوائے اس کے کہ اگر بیان کردہ قیمت سے زیادہ میں لیتا ہے تو وہ اس کو ملے گا، وہ جتنا بھی ہو ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، اس صورت میں یہ معاہدہ ناجائز ہے کیونکہ اس صورت میں اجرت مجہول ہے، نہیں معلوم کہ پرافٹ ہو گا بھی یا نہیں؟ اور اگر ہو گا تو کتنا ہو گا؟ جبکہ کمیشن کا پہلے سے طے ہونا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کام کی عرف میں جو عام طور پر کمیشن چلتی ہے، اس سے زائد طے نہ کی جائے ہے،اس فتاوی ہندیہ میں ہے " وفی الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير کذا فذلک حرام عليهم، كذافي الذخيرة.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.