Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کاروبارمیں جھوٹ بولنا
- Fatwa no.
- 1066-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لوگ کہتے ہیں کاروبار میں جھوٹ بولنا، جائز ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟ اگر صحیح ہے تو کب جائز ہے ؟ اور نہ غلط ہے تو اس کی رہنمائی فرمائیں ؟
Answer (beginning)
لوگوں کا یہ کہنا غلط ہے، کیونکہ کاروبار میں جھوٹ بولنا بھی حرام و گناہ ہے۔ احادیث کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کاروبار میں جھوٹ بولنے والوں کو بد کار فرمایا۔ چنانچہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 612 پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (1): "تجار (یعنی تاجر لوگ) قیامت کے دن فجار (یعنی بد کار اُٹھائے جائیں گے ، مگر جو تاجر متقی ( یعنی پر ہیز گار ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان کرے اور سچ بولے۔“ (جامع الترمذی) (2): "تجار بد کار ہیں۔ لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا اللہ پاک نے بیج (یعنی تجارت) حلال نہیں کی ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.