Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر سیدہ والدہ کا زکوۃ لیکر اپنے سید بچوں پر استعمال کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1064-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا غریب غیر سید عورت زکوۃ لے کر اپنے سید بچوں کو کھلا سکتی ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! غیر سیدہ عورت اگر شرعی فقیر ہو یعنی اس کے پاس حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد کچھ مال یا سامان نہ ہو ، یا ہو مگر ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت سے کم ہو ، تو اس کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، پھر وہ اپنے سید بچوں کو بھی کھلا سکتی ہے کہ زکو جب عورت کو ملی تو وہ اپنے محل پر پہنچ گئی ، اب عورت اپنے بچوں کو دے تو یہ ہدیہ ہو گا اور سید کو ہدیہ دینا جائز ہے۔ بخاری شریف میں ہے " قالت: وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقلت: هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: «هولها صدقة، ولنا هدية » " ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا نے فرمایا: اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.