Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مسجد میں کھڑے ہو کر کسی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟

Fatwa no.
1062-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اپنی ز کوۃ کی رقم دعوت اسلامی والوں کو دی، میں نے سنا ہے کہ مسجد میں اگر کوئی سائل سوال کرے تو اسے نہیں دے سکتے تو کیا میری زکوۃ ادا ہو گئی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

آپ کی زکوۃ ادا ہو گئی۔ مسجد کے سائل کو دینے سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مسجد میں اپنی ذات کے لیے سوال کرے، بھیک مانگے ، تو اسے کچھ دینے کی ممانعت ہے ، مسجد میں ہوتے ہوئے کسی دینی کام کے لئے چندہ دینے یا وکیل زکوۃ کو زکوۃ کی رقم سپر د کرنے کی ممانعت نہیں۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو (سائل) مسجد میں غل مچادیتے ہیں، نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں، لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں، ان کا مانگنا) مطلقاً حرام ہے ، اپنے لیے ، خواہ دوسرے کے لیے۔۔ اور اگر یہ باتیں نہ ہوں، جب بھی اپنے لیے مسجد میں بھیک مانگنا منع ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.