Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منہ دھونے یا نفلی نماز کیلئے مسجد بیت سے جانا کیسا؟

Fatwa no.
1051-WAT

Question

وضوكرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته : مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ : (الف) عورت اعتکاف میں ہو تو کھانے کے بعد منہ صاف کرنے کے لیے باتھ روم میں جاسکتی ہے؟ (ب) اور نفلی نماز یا قرآن پاک کی تلاوت کے لیے وضو کرنے کی حاجت ہو تو مسجد بیت سے باہر جا کر وضو کر سکتی ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

(الف) عورت گھر میں متعین کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے ، جو مسجد بیت“ کہلاتی ہے اور مسجد بیت میں فنا کا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئے عورت دوران اعتکاف مسجد بیت سے باہر بلا ضرورت شرعیہ نہیں نکل سکتی، صورتِ مسئولہ میں عورت اگر کھانے کے بعد منہ صاف کرنے کیلئے نکلے گی ، تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اس کو چاہیے کہ ہاتھ دھونے یا صاف کرنے کا انتظام مسجد بیت میں ہی کرے۔ (ب) عورت دوران اعتکاف نفلی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے لیے مسجد بیت سے باہر وضو کرنے جاسکتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.