Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب نصاب باپ کے بالغ بیٹے کو زکوٰۃ دینا؟

Fatwa no.
1039-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) باپ صاحب نصاب ہے لیکن بیٹا صاحب نصاب نہیں ہے اور بالغ ہے، تو کیا اس بیٹے کو ز کو دے سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

باپ ہاشمی یا سید نہ ہو اور صاحب نصاب ہو اور اس کا بالغ بینا صاحب نصاب نہ ہو ، تو اس بالغ بیٹے کو ز کو دے سکتے ہیں بدائع الصنائع میں ہے " أما ولد الغني فإن كان صغير الم يجز الدفع إليه وإن كان فقير الامال له؛ لأن الولد الصغير يعد غنيا بغنى أبيه وإن كان كبيرا فقير ايجوز؛ لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه فكان كالأجنبي ترجمہ : غنی کی اولادا گرنا بالغ ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز نہیں، اگر چہ وہ فقیر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ نابالغ اپنے باپ کے غنی ہونے کی وجہ سے غنی شمار ہو گا اور اگر بالغ اولاد فقیر شرعی ہو تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ اس کو اپنے باپ کی مالداری کی وجہ سے غنی شمار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.