Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کو دو یا تین یا زائد مستحقین میں تقسیم کرنا کیسا؟

Fatwa no.
1036-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیاز کوۃ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دے سکتے ہیں کہ پانچ ہزار ایک جگہ اور پانچ ہزار دوسری جگہ ؟

Answer (beginning)

پوری زکوۃ ایک ہی جگہ دینا لازم نہیں ہوتا، بلکہ اگر ز کوۃ متعدد فقر میں تقسیم کی جائے مثلا دس ہزار روپے زکوۃ کو دو یا تین یا اس سے زائد مستحقین میں تقسیم کیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہاں زکوۃ میں ادا کیا جانے والا مال اگر بقدر نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے۔ بہار شریعت میں ہے زکوۃ دینے والے کو اختیار ہے کہ ان ساتوں قسموں کو دے یا ان میں کسی ایک کو دیدے ، خواہ ایک قسم کے چند اشخاص کو یا ایک کو اور مال زکوۃ اگر بقدر نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.